اراکین پارلیمان کے دل، بات چیت اور کام سے امن، اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ ہو:مودی
لازوال ڈیسک
نئی دہلی؍؍وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمان سے منگل کو کہا کہ ان کے خیالات، بات چیت اور کام سے ملک میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے تئیں پارٹی کا عزم مسلسل جھلکتا رہے اور وہ معاشرہ میں ان اقدار کے قیام میں اہم کردار ادا کریں۔مسٹر مودی نے یہاں پارلیمنٹ کی لائبریری میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں اراکین پارلیمان سے یہ اپیل کی۔ میٹنگ میں بی جے پی کے صدر جگت پرکاش ندا، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، روڈٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری، وزیر قانون روی شنکر پرساد، سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے وزیر تھاور چند گہلوت، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر سمیت کئی دیگر وزیر اور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ موجود تھے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ترقی اور ترقی ہی ہمارا اصل نعرہ ہے ۔ ترقی کے ذریعہ ملک کی خدمت یہی ہماری سیاسی فعالیت کا مقصد ہے ۔ ہمیں خیال رکھناہے کہ امن، اتحاد اور ہم آہنگی، یہ ترقی کی پہلی شرط ہے ۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے تئیں ہمارا عزم ہمارے خیالات، ہماری بات چیت اور ہمارے کام سے مسلسل جھلکتا رہے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ میں اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کروں گا کہ امن، اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے اجتماعی کوششوں میں اہم سرفہرست رہ کر انکی قیادت کریں۔ میں آپ تمام سے یہ بھی درخواست کروں گا کہ ہم خود کو صرف بی جے پی کے کارکن ہی نہیں بلکہ بھارت ماتا کے بیٹے مانیں اور ہندستان کا بیٹا ہونے کے ناطے امن، اتحاد اور ہم آہنگی کی انتھک کوششوں میں ہمیں مصروف رہنا ہے ۔انہوں نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ خیال رہے کہ معاشرہ میں ایسے بھی لوگ ہیں جوپارٹی کے مفاد سے متاثر ہیں جبکہ ہم ملک کے وسیع تر مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔ یہ پارٹی کے مفاد اور ملک کے مفاد کے مابین ایک طرح سے رسہ کشی ہے اور ہمیں ملک کے مفاد میں کامیاب ہی ہونا ہے ۔ ہم یہ لڑائی صرف بی جے پی کے کارکنوں کے ناطے ہی نہیں بلکہ ہندستان کے بیٹے کے ناطے لڑ رہے ہیں۔ اس جدوجہد کا ہمارا مقصد ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا شواس’ ہی ہے ۔وزیراعظم نے ‘بھارت ماتا کی جے ’ کے نعروں پر شبہ کئے جانے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ، جب میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ ‘بھارت ماتا کی جے ’ جیسے نعرے کو بھی شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں ان میں کچھ عجیب سی بو آتی ہے ۔ ان کایہ نظریہ تکلیف دہ ہے جس پر ہرمحب وطن کو بہت افسوس ہے ۔میٹنگ میں وزیراعظم نے غریبوں کو سستی دوائیں دستیاب کرانے کے مقصد سے قائم کئے گئے جن اوشدھی مراکز کے فوائد کی نشاندہی کی۔ ملک میں پانچ ہزار سے زیادہ ایسے مراکز پر سبسڈی قیمت پر دوائیں فروخت کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سات مارچ کو اس یوجنا سے فائدہ حاصل کرنے والوں سے بات چیت کریں گے ۔