لوک سبھا میں حکمراں فریق اور اپوزیشن کے اراکین کے مابین دھکا مکی

0
0

دہلی تشدد پر فوری طورپر بحث کرانے کی مانگ،اراکین نے کاغذ پھاڑ کر اسپیکر کی کرسی کی طرف پھینکے
ایوان سب کی رضامندی اور تعاون سے چلتا ہے،جو بھی خلاف ورزی کرے گا اسے موجودہ مکمل اجلا س سے معطل کردیا جائے گا:اسپیکر
لازوال ڈیسک

نئی دہلی؍؍دہلی تشدد پر فوری طورپر بحث کرانے کی اپوزیشن کی مانگ پر لوک سبھا میں منگل کو زوردار ہنگامہ کے دوران اراکین نے کاغذ پھاڑ کر اسپیکر کی کرسی کی طرف پھینکے اور اپوزیشن اور حکمراں فریق کے اراکین کے مابین زبردست دھکا مکی ہوئی۔ایوان میں افراتفری کی صورت پیدا ہونے کے پیش نظر اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کردی۔ صبح دو بار کارروائی ملتوی کئے جانے کے بعد وزیر قانون روی شنکر پرساد اور حکمراں فریق کے کچھ اراکین نے محفوظ گھیرا بناکر لوک سبھا سکریٹری جنرل اسنیہ لتا سریواستو کو ایوان سے باہر نکالا۔دوپہر دو بجے کارروائی شروع ہونے پر مسٹر برلا نے سب سے پہلے ضروری کاغذات ایوان میں میز پر رکھوائے ۔ اس کے بعد انہوں نے بینکنگ ریگولیشن (ترمیمی) بل، 2020پیش کرنے کیلئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا نام لیا۔ اس پر کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور اپوزیشن کے تقریباََ تمام اراکین نے کھڑے ہوکر دہلی تشدد پر بحث کی مانگ کی۔ اسپیکر نے کہاکہ حکومت اس معاملہ پر بحث کیلئے تیار ہے اور ہولی کے بعد 11مارچ کو اس پر بحث ہوگی۔ اس پر اپوزیشن کا ہنگامہ مزید بڑھ گیا اور اپوزیشن اراکین اسپیکر کی کرسی کے نزدیک آگئے ۔کچھ اپوزیشن رکن کاغذ پھاڑ کر اسپیکر کی کرسی کی طرف اچھالنے لگے ۔ اسپیکر نے بغیر بحث کے بل پاس کرانے کی کوشش کی اور کچھ ترمیمات صوتی ووٹ سے منظور بھی کرادیئے ۔ اپوزیشن نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ اس کے بعد کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری حکمراں فریق کی طرف جاکر اسپیکر کی کرسی کے نزدیک پہنچ گئے ۔ کچھ کہنے کے بعد وہ واپس جارہے تھے لیکن خواتین اور اطفال کی فلاح و بہبود کی وزیر اسمرتی ایرانی اور حکمراں فریقہ کے کچھ دیگر اراکین اس درمیان اپنی سیٹ چھوڑ کر راستے میں آچکے تھے جس کی وجہ سے مسٹر چودھری اپنی سیٹ پر نہیں جاسکے ۔وزیر قانون روی شنکر پرساد اور حکمراں فریق کے کچھ اراکین مسٹر چودھری کے لئے راستہ بناتے ہوئے انہیں پکڑ کر واپس لے جانے لگے لیکن تب تک حکمراں فریق اور اپوزیشن کے کئی اراکین کرسی کے نزدیک آچکے تھے ۔ ا ن کے مابین آپس میں زبردست دھکا مکی ہوئی۔ دونوں طرف کے دیگر اراکین بھی اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے جس سے ایوان میں زوردار شور و غل اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کئے جانے کے باوجود دونوں فریق کے اراکین کچھ دیر تک ایوان میں رکے اور ان کے مابین زور زور سے تلخ کلامی جاری رہی۔اس سے پہلے بل پیش کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہاکہ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ اس میں بینکوں میں اکاونٹ ہولڈروں کے جمعہ پیسہ پر گارنٹی ایک لاکھ روپے سے بڑھاکر پانچ لاکھ کرنے کا التزام ہے ۔ حال ہی میں پنجاب اینڈ مہاراشٹر کوآپریٹیو بینک میں پیدا ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اسے حد بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاکہ عام لوگوں کے مفادات کی حفاظت کی جاسکے ۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ اس بل کو منظور ہونے سے روکنے کی کوشش کرکے چھوٹے اور درمیانہ پیسہ جمع کرنے والوں کو ان کے حقوق سے محروم کررہا ہے ۔کانگریس، ترنمول کانگریس، دراوڑ منیتر کزگم سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں صبح گیارہ بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی دہلی تشدد پر بحث کرانے کی مانگ پر ہنگامہ کرنے لگیں۔ اسپیکر نے کہاکہ کل جماعتی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی رکن کسی کی سیٹ پر نہیں جائے گا۔ اس کی جو بھی خلاف ورزی کرے گا اسے موجودہ مکمل اجلا س سے معطل کردیا جائے گا۔ یہ اصول حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریق پر نافذ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان سب کی رضامندی اور تعاون سے چلتا ہے ۔کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ ہم لوگ عام لوگوں کے نمائندے ہیں اس لئے ان سے وابستہ امور کو ایوان میں اٹھانا ان کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں جس طرح کا تشدد ہوا ہے اور مسلسل مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، اس پر خاموش کیسے رہ سکتے ہیں۔ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے کہاکہ اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے سنگین امور پر بھی حکومت کی طرف سے جب کوئی جواب نہیں ملتا ہے اسی وقت ہنگامہ جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔ حکومت کو اپوزیشن کی بات سننی چاہئے اور اس کا مناسب جواب دینا چاہئے ۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہاکہ ایوان میں امن قائم رکھنے کی ضرورت ہے اسی وقت کسی موضوع پر بحث کی جاسکتی ہے ۔ کل جماعتی میٹنگ میں ایوان کے تعلق سے جو فیصلہ کیا گیا اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ دہلی سے متعلق موضوع وقفہ صفر میں اٹھایا جانا چاہئے ۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ شروع کردیا۔مسٹر برلانے اراکین کو پرسکون کرتے ہوئے کہاکہ ایوان میں پلے کارڈ لیکر نہیں آنا ہے ۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہاکہ آپ لوگ طے کرلیں کہ ایوان اب پلے کارڈ سے چلے گا۔ ا س کے بعد ہنگامہ بڑھ گیا۔ اسکے بعد اسپیکر نے ایوا ن کی کارروائی دوپہر بارہ بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی پھر سے شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے اراکین ایک بارپھر ہنگامہ کرنے لگے ۔ قائم مقام اسپیکر کرٹ سولنکی نے اراکین سے پرسکون رہنے اور سماجی انصاف اور امپاورمنٹ محکمہ پر بحث کرانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ یہ اہم موضوع ہے اور یہ درج فہرست ذات و قبائل سے متعلق ہے اس لئے اراکین کو بحث میں حصہ لینا چاہئے ۔ اس کے باوجود اراکین کا ہنگامہ جاری رہا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا