مینڈھر میں دو گھنٹو ں تک دونو ں افو اج کے درمیان گو لیو ں کو تبا دلہ
ناظم علی خان
مینڈھر؍؍لائن آف کنٹرول آج صبح ایک بار پھر اس وقت گولیوں اور مارٹر شلوں کی گونج سے لرز اٹھی جب پا کستا نی افو اج نے لگا تا ر دوسرے دن مینڈھر اور منکو ٹ سیکٹرو ں میں فائرنگ اور مارٹر شل داغے۔طرفین کے مابین صبح 3 بجکر30منٹ پرفائرنگ اور مارٹر شلینگ کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے صبح 5 بجے تک جاری تھا تا ہم گو لہ با ری سے کوئی بھی جانی اور ما لی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ اطلا عات کے مطابق سر حدی ضلع پونچھ میں حد متارکہ پر کشیدگی کے بیچ ہند و پاک افواج کے درمیان گولی باری کا نہ تھمنے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس دوران آج صبح ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر 2حریف ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان فائرنگ اور مارٹر شلوں کا تبادلہ ہوا۔ دفاعی زرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے مینڈھر اور منکو ٹ سیکٹروں میں بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا۔انہوںنے کہا کہ پاکستانی فوج نے مینڈھر اور منکو ٹ سیکٹروں میں بھارت کی اگلی چوکیوں پر درمیانہ درجے کے ہتھیاروں سے گولیاں چلانے کے علاوہ مارٹر شلوں کا استعمال کیا۔ انہو ں نے بتا یا کہ پا کستا نی بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کا بھارتی فوج نے بھر پور انداز میں جواب دیا ۔واضح رہے سر حدی ضلع پونچھ لائن آف کنٹرول گز شتہ کئی عر صے سے گو لہ با ری کا تبا دلہ جا ری ہے جس کی وجہ سے مقامی لو گو ں کو مشکلا ت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے ۔ منکو ٹ سے تعلق رکھنے والے مقامی با شند ے محمد حسین نے بتا یا کہ سر حدی گو لہ با ری سے ہم تنگ آگئے ہیں ، کیو نکہ گو لہ با ری کی وجہ سے ہم کو ئی بھی کام نہیں کر سکتے ہیں ۔ اور ہمیں اپنے گھرو ں میں ہی قید ہو کر رہنا پڑتا ہے ۔ انہو ں نے بتا یا کہ پا کستا نی گو لہ با ری کی وجہ سے ہم بچو ں کو بھی سکول نہیں بھیج سکتے ہیں ،۔ کیو نکہ فا ئرنگ کا کو ئی پتہ نہیں ہو تا ہے کب شروع ہو جا ئے ، جس کی وجہ سے بچو ں کی پڑ ھائی بھی متا ثر ہو رہی ہے۔ مینڈھر کے علا قہ بسونی کے مقامی با شندو ں نے بتا یا کہ ہمیں کسی محفوظ جگہ شفت کیا جا ئے کیو نکہ گز شتہ دنو ں سے بسونی ڈھر نہ میں پا کستا نکی جانب سے بلا جو از گو لہ با ری کی جا رہی ہے ، جس کی وجہ سے کئی مکا نو ں کو بھی نقصان پہنچا ہے ، انہو ں نے دونو ں ممالک سے اپیل کی ہے کہ بیٹھ کر بات چیت کی جا ئے اور 2003کی طرز پر فا ئرنگ کے سلسلہ کو بند کیا جا ئے تا کہ سر حدی عوام آرام سے اپنی زند گی گز ار سکے۔