محکمہ تعلیم کے نائٹ چوکیداروں اور صفائی والوں کا ماہانہ مشاہرہ انتہائی حقیر

0
0

اضافے کے حکمنامے تو جاری ہوئے لیکن زمینی سطح پر عمل درآمد نہیں ہوا
یواین آئی

سرینگر؍؍جموں کشمیر انتظامیہ جہاں ایک طرف سر کاری تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر منظم کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری امور فراہم کرنے میں کوشاں ہے وہیں دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی دیکھ ریکھ اور صفائی ستھرائی پر مامور عملے کا مشاہرہ زمانہ قدیم کے خطوط پر ہی استوار ہے۔محکمہ تعلیم میں صفائی والوں اور نائٹ چوکیداروں کے بطور کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسہا برس سے ارباب اقتدار کے دفتروں کی خاک چھاننے کے باوجود بھی ہمارے مشاہرے میں اضافہ نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کا مشاہرہ مقررہ خطوط کے مطابق ادا کریں۔ایک صفائی والے نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کئی بار ہمارے مشاہرے میں اضافے کے بارے میں اعلانات و حکمنامے جاری کئے گئے لیکن زمینی سطح پر انہیں عمل میں نہیں لایا گیا۔انہوں نے کہا: ’ہم اسکولوں کی حفاظت اور صفائی کرتے ہیں لیکن ہمارا ماہانہ مشاہرہ انتہائی حقیر ہے، کسی کو پچاس روپے دیے جاتے ہیں کسی کو پانچ سو، وہ بھی سال میں ایک یا دو بار دیکھنے کو ملتے ہیں‘۔ موصوف نے کہا کہ سابق کمشنر سکریٹری ایجوکیشن نسیمہ لنکر نے سال 2011 میں ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق ہماری نوکریوں کی مستقلی کے ساتھ ساتھ ہمارے مشاہرے میں اضافے کی ہدایات تھیں لیکن اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سابق ناظم تعلیم ڈاکٹر شاہ فیصل نے بھی ہمارا مشاہرہ 33 سو روپے فی ماہ مقرر کرنے کا حکمنامہ جاری کیا تھا لیکن یہ اعلان بھی محض اعلان تک ہی محدود رہا۔ایک سکول میں نائٹ چوکیدار کے بطور کام کرنے والے ایک ملازم کا کہنا تھا کہ خراب حالات میں بھی ہم اسکولوں میں 24 گھنٹے تعینات رہتے ہیں لیکن ہماری فریاد سننے کے لئے کوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشاہرہ اس قدر حقیر ہے کہ ہم اس کو گھر والوں کے سامنے منکشف کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ان ملازمین نے ناظم تعلیم کشمیر سے اپیل کی کہ وہ انہیں ماہانہ مشاہرہ مقررہ خطوط کے مطابق ادا کریں تاکہ ان کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا