یواین آئی
سرینگر؍؍قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سال گزشتہ رونما ہوئے پلوامہ خود کش دھماکہ کیس میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزید دو افراد کو گرفتار کیا۔قبل ازیں این آئی اے نے پلوامہ کے حاجی بل کاکہ پورہ سے تعلق رکھنے والے شاکر بشیر ماگرے کو مبینہ طور پر پلوامہ خود کش دھماکہ کے انجام دینے والے عادل ڈار کو پناہ دینے کی پاداش میں 28 فروری کو گرفتار کیا تھا۔این آئی اے ذرائع کے مطابق ایجنسی نے منگل کے روز پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے باپ – بیٹی کو پلوامہ خود کش دھماکہ کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا۔ انہوں نے گرفتار شدہ باپ – بیٹی کی شناخت طارق احمد شاہ اور انشا طارق کے بطور کی۔ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے نے پیر اور منگل کی درمیانی رات کو ان کے گھر پر چھاپہ ڈال کر انہیں منگل کی صبح گرفتار کیا۔انہوں نے باپ – بیٹی کی گرفتاری کے وجوہات کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں آنے والے دونوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو جموں لے جایا گیا جہاں این آئی اے کی خصوصی عدالت سے ان کی تحویل مانگی جائے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق جیش محمد نے عادل ڈار کی جو ویڈیو جاری کی تھی وہ مبینہ طور پر باپ – بیٹی کے گھر ہی بنائی گئی تھی۔ باپ – بیٹی کی گرفتاری کے ساتھ پلوامہ خود کش دھماکہ کیس سلسلے میں این آئی اے نے اب تک تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ قبل ازیں این آئی اے نے اس سلسلے میں شاکر بشیر اور ناظم نذیر کو گرفتار کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال گزشتہ رونما ہوئے پلوامہ خود کش دھماکے، جس میں سی آر پی ایف کے زائد از چالیس اہلکار از جان ہوئے تھے، کے بعد ہندوستان اور پاکستان جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔