اپنی غلطیوں سے سبق لے کر آگے بڑھیں گے :وراٹ

0
0

کرائسٹ چرچ؍؍ نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے اور سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ میں ملی سات وکٹ سے شکست کے بعد ہندستانی کپتان وراٹ کوہلی نے پیر کو کہا کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق لے کر اس میں بہتری کریں گے اور آگے بڑھیں گے ۔نیوزی لینڈ نے ہندستان کو سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں سات وکٹ سے شکست دے کر سیریز 0-2 سے جیت لی۔میچ کے بعد وراٹ نے کہ ہم اس دورے کو لے کر کوئی بہانہ نہیں دے سکتے ۔ ہم اپنی غلطیوں سے سبق لیں گے اور اپنے کھیل کو بہتر کر آگے بڑھیں گے ۔ ہمارے لئے اس دورے میں ٹی -20 سیریز شاندار رہی جہاں ہم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ون ڈے میں بھلے ہی ہمیں شکست ملی لیکن روہت کی غیر موجودگی میں اور میرے رنز نہیں بنانے کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں نے جس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ دیکھنا خوشگوار تھا۔انہوں نے کہاکہ اس سیریز میں کچھ چیزیں ہمارے لئے مثبت رہیں لیکن ٹیسٹ ٹیم کی حیثیت سے ہم ویسے کھیل کا مظاہرہ نہیں کر سکے جیسا ہم کرنا چاہتے تھے ۔ ہمیں اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ ہم بہتر نہیں کھیلے ۔ ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق لینا ہوگا اور اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہوگا۔کپتان نے کہاکہ عام طور پر ٹیم کی بلے بازی ہمارا مضبوط شعبہ ہے لیکن اس مقابلے میں بلے بازوں نے امید کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی وجہ سے گیند باز مخالف ٹیم پر دباؤ نہیں بنا سکے ۔ یہ افسوسناک ہے کہ بلے باز اسکور بورڈ پر اتنے رنز نہیں کر سکے جس سے بولر کچھ کوشش کر سکیں۔وراٹ نے کہاکہ آپ کو غیر ملکی زمین پر میچ اور سیریز جیتنے کے لئے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں متوازن ہوکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے ۔ ہمیں واپس جا کر اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے سمجھنا ہوگا کہ ہم نے نیوزی لینڈ کے دورے میں کیا غلطیاں کیں اور اسے سدھارتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال سے ہم نے پہلے مقابلے میں جس طرح کا مظاہرہ کیا اس کا اثر دوسرے میچ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ ٹیم نے اس میچ کی پہلی اننگز میں اچھی بلے بازی کی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں نیوزی لینڈ کے گیند بازوں کو بھی کریڈٹ دینا ہو گا جنہوں نے درست سمت میں گیند بازی کی اور ہم پر دباؤ برقرار رکھا۔کپتان نے کہاکہ اس مقابلے میں ہمارے پاس بہت کم ایسے موقع آ رہے تھے جہاں ہم بہتر شاٹ کھیل سکیں۔ ان کی بولنگ بہتر تھی اور بلے باز صرف سنگل ہی لے پا رہے تھے ۔ ایسا صحیح نفاذ نہیں ہو پانے کی وجہ سے ہوا۔ لیکن نیوزی لینڈ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے گیند بازوں کی حکمت عملی شاندار تھی اور انہوں نے ہمیں غلطیاں کرنے پر مجبور کر دیا۔وراٹ نے کہاکہ ہم ایسی ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کے بارے میں سوچتی ہے ۔ جی ہاں، میں مانتا ہوں کہ اس سے گیند بازوں کو پہلے دو گھنٹے کافی فائدہ ملتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر حالات الگ ہوتے ہیں اور آپ کو دوسرے اور تیسرے سیشن میں بھی اچھی کارکردگی کرنا ہوتی ہے ۔ آپ حالات کو دیکھتے ہوئے کارکردگی کرتے ہیں لیکن اس مقابلے میں ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا