سیکولر ہندستان ہی واحد راستہ

0
0

سیاست میں انتقام نہایت خطرناک:پروفیسر بھیم سنگھ
لازوال ڈیسک

جموں؍؍نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیاور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے طلبا اور دیگر لوگوں کے احتجاجی مظاہروں کے مبینہ واقعات پر گہرا دکھ اظہار کیا، جو امن کے ماحول کو خطرے میں ڈال کر امن پسند لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔پنتھرس سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ نے کئی یونیورسٹی کے طلبا کے پرتشدد مظاہروں پر بھی گہرا دکھ ظاہر کیا۔ انہوں نے ہندستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو یاد دلایا کہ وہ (بھیم سنگھ)خود کئی ایسے مواقع سے گزرے ہیںجب انہیں پولیس کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑا اور 1966میں جموں شہرکی سڑکوں پر ان کے نزدیک کھڑے سردار گرچرن سنگھ کی طرح اپنے کئی طلبا ساتھیوں کو کھو نا پڑا۔انہوں نے پولیس سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر نوجوانوں کے جذبات کو سمجھیں۔انہوں نے وزیراعظم مودی سے اپیل کی کہ وہ ایک نوجوان اور طالب علم کے طورپر اپنے پرانے دنوں کو یاد کریں جب وہ جوشیلے احتجاجی مظاہرے کرتے تھے ۔ امن و قانون قائم رکھنے کیلئے سڑکوں پر پرامن، جذباتی نوجوانوں اور طلبا کے جمہوری حقوق برقرار رکھنے چاہئیں۔انہوں نے حکمراں طبقہ کو یاد دلایا کہ ہندستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس نے پوری دنیا کو امن، رواداری اور نیک نیتی کا پیغام دیا ہے۔ امن پسند مظاہرین کو ان کی املاک سے محروم کرنا اور انہیں پولیس تھانوں و جیلوں میں لے جانا اور بے رحمی سے ان کی پیٹائی کرناجمہوریت میں قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ انہوں نے خود جموں وکشمیر میں طالب علم کے طورپر برسوں تک جیل اور پولیس مظالم کاتجربہ کیا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک رکن اسمبلی کے طورپر میں نے (بھیم سنگھ)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قانون میں گریجوئیشن کی۔انہوں نے وزیراعظم سے تمام علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی قومی یکجہتی کونسل کی جلد از جلد تشکیل نوکی درخواست کی کیونکہ موجودہ وزیراعظم نے قومی یکجتہی کونسل کی تشکیل نو یا قائم نہیں کیا ہے۔انہوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ پنڈت جواہرلال نہرو نے 1963میں قومی یکجہتی کونسل میں قائم کی تھی جس میں تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوںسمیت معاشرہ کے مختلف طبقات کے نمائندوں، دانشوروں، مفکرین اور سائنسدانوں کو قومی یکجہتی کونسل میں ایک ساتھ بیٹھنے کا موقع دیا گیا ،جومختلف شعبوں میں عوامی تائید کا تجزیہ کرنے میں وزیراعظم اور حکومت کی مدد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندستان کے تمام طبقات کے لوگوں میں ثقافت، قومی اتحاد اور یکجتہی کو فروغ دینے کے لئے سیکولزم ہی واحد راستہ ہے کے واضح پیغام کے ساتھ وزیراعظم سے قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلانے کی اپیل کی۔انہوں نے پانچ جنوری 2020 کو جواہر لال یونیورسٹی میں داخل ہونے والے باہر کے لوگوں کی شناخت کے لئے غیرجانبدارانہ ا ور آزادانہ تفتیش کا مطالبہ بھی کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا