واشنگٹن//امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اعلان کیا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے سے پیدا شدہ حالات کے پیش نظر مزید 750 امریکی فوجی جلد از جلد مشرق وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں۔گزشتہ روز 31 دسمبر کو ہزاروں مظاہرین نے عراق میں انتہائی سکیورٹی والے علاقے ‘گرین زون‘ میں واقع امریکی سفارت خانے پر حملہ کردیا، مظاہرین نے سفارت خانے کے باہر توڑ پھوڑ کی، دیواروں کو آگ لگادی اور امریکی پرچم نذر آتش کیے۔ یہ پرتشدد مظاہرے ایران نواز ملیشیا کے خلاف اتوار کے روز امریکی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کے خلاف کیے گئے تھے۔بعض رپورٹوں کے مطابق مظاہرین ‘امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے اتوار 29 دسمبر کو ایران نواز ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ جس میں اس تنظیم کے کئی اہم کمانڈروں سمیت کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایک بیان میں کہا، ’’امریکی افواج کی تعیناتی امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات کے، جیسا کہ بغداد میں دیکھنے کو ملا ہے، مدنظر مناسب اور احتیاطی اقدام کے طور پر کی جارہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ’’امریکہ دنیا بھر میں کہیں بھی اپنے عوام اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں امریکی فوجیوں کو تعینات کردیا جائے گا۔ ایسپر نے ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ تعینات کی جانے والی نئی افواج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہ راست کمان میں ہو گی۔جن 750 فوجیوں کو فوراً تعینات کیا جا رہا ہے وہ خلیجی علاقے میں پہلے سے ہی تعینات 14,000 امریکی فوجیوں میں شامل ہوجائیں گی۔ خیال رہے کہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف حالیہ مہینوں میں اقتصادی پابندیاں مزید سخت کردی ہیں۔ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ٹوئٹ میں ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’انہیں اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔” انہوں نے حملے سے نمٹنے میں امریکا کی مدد کرنے پر عراقی حکام کا بھی شکریہ ادا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’’دہشت گردوں کی کارستانی” ہے۔ایران نے امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے مظاہروں کے تئیں واشنگٹن کے ”غیر ذمہ دارانہ رویے” کی مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ امریکا کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ عراقی اسے اپنے خود مختار ملک میں ایک ’’قابض طاقت” کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی لیے امریکا کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔