ادارے کو پٹری پر لانے کیلئے کوششیں جاری،لوٹ کھسوٹ میں ملوث ملازمین کو بخشا نہیں جائے گا:درخشاں اندرابی
کے این ایس
سرینگر؍؍بی جے پی کی سینئر لیڈر اور چیئرپرسن سنٹرل وقف ڈیولپمنٹ کمیٹی ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جموں کشمیر میں زائرین سے حاصل کئے گئے رقومات میں بڑے پیمانے پر خربرد اور دھاندلیاں کی گئی ہے اور اس پورے عمل کی عنقریب بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جائیں گی۔درخشاں اندرابی نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے مقابلے میں کشمیر میں کافی تعداد میں وقف بورڈ کے زیر نگراں آستان اور دیگر مقدس مقامات ہیں اور ہر روز زائرین کی ایک بڑی تعداد اپنے عقیدے کے تحت نظرانہ ادا کررہے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران زائرین سے حاصل کئے گئے رقومات کا بڑے پیمانے پر خرد برد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں تعینات ملازمین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے اور انہوں نے ذاتی مفادات کے خاطر اس ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔انکا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے چارج سنبھالہ تب سے انہوں نے مختلف آستانوں اور دیگر مذہبی مقامات کا دورہ کرکے صورت حال کا جائزہ لیا جس دوران وقف ملازمین کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ اب انکی احتساب کی باری آگئی ہے اور وہ لوگ ذہنی اضطراب میں مبتلا ہونے لگیہیں۔انہوں نے کے این ایس کو مزید بتایا کہ زائرین ایک عقیدے کے تحت آستانوں اور دیگر مقدس مقامات کیلئے اپنا نظرانہ پیش کرتے ہیں اور وقف بورڈ اسکی امانت دار ہے لہذا ہم زائرین کی عقیدت کو برقرار رکھنے کیلئے ایک صاف و شفاف نظام متعارف کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں انکو دور کرنے کیلئے وقف ملازمین کو ہر ممکن جواب دہ بنایا جائے گا۔ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران وقف ادارے میں ملازمین کی تقرریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور بہت جلد لوگوں کو اصل صورتحال کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائیں گی۔ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سینئر خاتون لیڈر نے بتایا کہ وقف بورڈ میں تعینات ملازمین اور دیگر زمہ داروں کی ناقص کارکردگی اور مالی بدعنوانیوں کے پیش و نظر جموں کشمیر میں وقف بورڈ کوئی بڑا ہسپتال یا کوئی دوسرا ادارہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے اور اب ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم وقف بورڈ کو سٹریم لائن کرکے لوگوں کی سہولیات کے لئے کسی بڑے فلاحی ادارے کا قیام عمل میں لائے اور اس پورے عمل کے لئے ہمیں لوگوں کا تعاون ضروری ہے۔