موسم گرما شریعت کے مطابق گزارئیے

0
0

مولانا ابوبکرحنفی شیخوپوری
اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تغیر ہے،کبھی فضاء میں خنکی بڑھ جانے سے موسم سرد ہو جاتا ہے تو کبھی گرم لو چلنے سے حدت پیدا ہو جاتی ہے ،کبھی بہاروں کی رت درختوں کو سرسبز پوشاک سے آراستہ کرتی ہے تو کبھی خزائیں ڈیرے ڈال کر ان سے یہ رونقیں چھین لیتی ہیں ،یہ سب خالقِ حقیقی کی تخلیق کے دلفریب مناظر اور اس کی کمالِ صنعت کے مظاہر ہیں جو یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو نظامِ کائنات کی منظم اور گردشِ ایام کی محرک ہیاس وقت موسم گرما ہم پر سایہ افگن ہے ،اس کے متعلق کیا شرعی ہدایات ہیں اور اس کے کون سے دینی و اخلاقی تقاضے ہیں ؟آئیے !قرآن و سنت کی روشنی میں ان پر ایک نگاہ دوڑاتے ہیں۔
خاص نعمتوں پر شکر
موسمِ گرما اپنی آمد کے مختلف پھلوں اور سبزیوں کے ذائقوں سے روشناس کرواتا ہے،جن کے ان گنت فوائد ماہرین نے بتائے ہیں ،جیسے وٹامن کی کمی کو پورا کرنا،جسم سے فاسد مادوں کا اخراج ،کینسر ،ذیابیطس اور کئی امراض سے شفاء وغیرہ۔زبان کو لذت اور وجود کو صحت بخشنے والے ان پھلوں اور ترکاریوں کا استعمال کر کے انسان کو چاہئے کہ وہ جذبہ شکر سے لبریز ہو کر اس منعم حقیقی ذات کے سامنے سر بسجود ہو جائے جس نے اس نئے موسم میں نئے پھل کھانا نصیب فرمائے ہیں ۔موسم کا نیا پھل کھاتے وقت مسنون دعا شریعت میں سکھائی گئی ہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معمول تھا کہ جب وہ نیا پھل دیکھتے تو کھانے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قبول فرما کر یوں برکت کی دعا کرتے ’’اللہم بارک لنا فی ثمرناوبارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی صاعنا وبارک لنا فی مدنا‘‘ (صحیح مسلم)
نہانے دھونے کا اہتمام
گرمی کی شدت کی وجہ سے وجود سے پسینے کا نکلنا ایک طبعی امر ہے جو اطباء کی تحقیق کے مطابق جسم میں موجود زہریلے اور فاسد مادوں کو خارج کر کے صحت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،وزن کو کم کرنے اور مدافعاتی نظام کو فعال کرنے میں بھی اس کا بنیادی رول ہے ،لیکن جسم سے نکلنے والا یہ پانی انتہائی بدبودار ہوتاجس سے خود کو اور پاس بیٹھنے والے شخص کو سخت اذیت اٹھانا پڑتی ہے ،مروت کی وجہ سے اگرچہ اس کو کچھ نہ کہے لیکن دل میں اس شخص کی نفرت پیدا ہو جاتی ہے،لہذا موسم گرما میںدوسروں کو ایذا رسانی میں مبتلا کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے اور نہانے دھونے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا اہتمام کرنا چاہئے ،یہی شریعت کی تعلیم ہے چنانچہ اسلام کے ابتدائی دور میں جب مسجد نبوی تنگ تھی اور چھپر کی چھت تھی جو زیادہ اونچی بھی نہیں تھی تو گرمیوں میں جمعہ کے اجتماع میں پسینے کی بدبو پھیل جاتی تھی،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا :جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو پہلے غسل کرے ۔(صحیح بخاری)
نمازِ ظہر میں تاخیر
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو زوال کے فوراََ بعد ادا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اتنی تاخیر سے پڑھنا چاہئے کہ گرمی کی حدت میں قدرے کمی واقع ہو جائے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سخت گرمی پڑے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔آگے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا: گرمی میں شدت جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے آتی ہے(اور جہنم نے اس لئے سانس لیا کہ ایک دفعہ)آگ نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا اے میرے رب: (گھٹن کی وجہ سے) میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے،اللہ تعالی نے اس کو دو سانس لینے کی اجازت دی ،ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں (بخاری مسلم)
نمازِ فجر اور عشاء کی پابندی
ہمارے ایشیائی ممالک میںموسم گرما میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی ہیں،دن کا دورانہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کام کاج زیادہ کرنا پڑتا ہے اور تھکاوٹ کی وجہ سے عموما عشاء کی نماز رہ جاتی ہے،دوسری طرف رات مختصر ہونے کی وجہ آرام کا موقع کم ملتا ہے اور صبح کی نماز نیند کی نذر ہو جاتی ہے،ان دونوں نمازوں میں سستی کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی علامت قرار دیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقین بھی دکھلاوے کے لئے نماز پڑھتے تھے لیکن چونکہ دل میں کفر رکھنے کی وجہ نماز کی اہمیت نہیں تھی اس لئے فجر اور عشاء میں حاضری سے پہلو تہی کرتے تھے ،ان کے اس طرزِ عمل کے پیشِ نظر ارشاد فرمایا:بیشک یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر تمام نمازوں سب سے بھاری ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنا اجر ہے تو تم ان میں ضرور حاضری دو اگرچہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔(سنن ابی داؤد)
ستر کا خیال کرنا
گرمیوں میں جسم کی راحت کے لئے ہلکے پھلکے اور باریک لباس زیبِ تن کئے جاتے ہیں،شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن اتنا باریک کپڑا نہ پہنا جائے جس سے اعضائِ جسم ظاہر ہوں،عموما دھوپ یا روشنی میں باریک کپڑوں سے جسم نظر آتا ہے ،اسی طرح جب باریک کپڑے پہن کر نہایا جاتو کپڑوں کے جسم کے ساتھ چپک جانے کی وجہ سے بھی ستر ظاہر ہوتا ہے،غرضیکہ ستر کھلنے کی کوئی بھی صورت ہو اس سے بچنا لازم ہے کیونکہ ستر کھولنا انتہائی غیر اخلاقی ، غیر فطری اور غیر شرعی عمل ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق سخت وعید ارشاد فرمائی ہے،حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مرسلاََ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ نے (ستر) دیکھنے والے اور دکھانے والے دونوں شخصوں پر لعنت فرمائی ہے(مشکوۃ)
بلا وجہ دھوپ میں نہ بیٹھنا
گرمی کی تپش سے بچنے کے لئے کسی درخت یا عمارت کے سائے میں بیٹھنا اور آرام کرناچاہئے،بلا وجہ دھوپ میں کھڑا ہونا ایک نا مناسب طریقہ اورخود کو سزا دینے کے مترادف ہے ،اگر کہیں سائے والی جگہ نہ ملے تو سر کو کپڑے سے ڈھانپ لینا چاہئے ،قرآنِ کریم میںحضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ میں مذکور ہے کہ جب وہ مصر سے سفر کرتے ہوئے مدین پہنچے تو کنویں کے قریب موجود ایک درخت کے سائے میں پناہ لی ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا کہ دورانِ سفر کچھ دیر کے لئے رکنا پڑتا تو سائے والی جگہ کا انتخاب فرماتے ،حضرت قیس بن حازم رضی اللہ عنہ اپنے والدکے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ دھوپ میں بیٹھے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ لیا تو فرمایا:سائے میں آجاؤ۔اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے درخت کے نیچے جہاں لوگ سایہ حاصل کرنے لئے رکتے ہوں ،پیشاب پاخانہ کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس غیرمہذب عمل کو موجبِ لعنت قرار دیا ہے۔(مسند احمد)
کیڑوں مکوڑوں سے حفاظت
موسم گرما میں اکثر موذی جانور جیسے سانپ ،بچھو وغیرہ اور کیڑے مکوڑے نکل آتے ہیں ،ان سے بچاؤ کے لئے صفائی ستھرائی کا خیال کرنا ضروری ہے،اس موسم میں کھیتوں میں بلا ضرورت چلنے اور نہروں اور کھالوں اور کھیتوں کی پگڈنڈیوںپر بلا وجہ بیٹھنے سے احتیاط کرنی چاہئے تاکہ کوئی موذی جانور نہ ڈس دے ،اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانک کر رکھیں تاکہ کوئی کیڑا مکوڑا اس میں نہ گر جائے ۔
ٹھنڈا پانی پلانا
گرمی سے بے حال لوگوں کے کے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنا خواہ وہ کولر بھر رکھنے کی صورت میں ہو یا پانی کی ٹینکی لگوانے کی صورت میں ہو ،انتہائی مبارک عمل اورخدمتِ انسانیت کی اعلی مثال ہے،یہ وہ صدقہ جایہ ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے اللہ تعالی اس کو جنت کے میوے کھلائے گا ،جو کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا اللہ اس کو نہایت نفیس شرابِ طہور پلائے گا جس پر غیبی مہر لگی ہو گیاور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے گا اللہ اس کو جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا۔(سنن ابی داؤد)
جانوروں کا خیال کرنا
جانور بے زبان ہوتے ہیں ،اللہ نے ان میںاپنی ضرورت اور تکلیف کا اظہار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھی ،اس لئے ان کی ضروریات کا خیال کرنا اور تکلیف دور کرنا مالک کی ذمہ داری ہے ،بالخصوص گرمیوں کے موسم میں جس طرح انسانوں کو زیادہ پیاس لگتی ہے اور دھوپ میں کھڑے ہونے سے تکلیف ہوتی ہے ،یہی معاملہ جانوروں کے ساتھ بھی ہے،لہذا ان جانوروں کا یہ حق ہے کہ اگر مالک ان سے کام لیتا ہے تو ان کی بھوک پیاس اور دھوپ چھاؤں کا بھی خیال کرے،خدانخواستہ ان کی ضروریات کا خیال نہ کیا تو قیامت کے دن جس طرح انسانوں کے حقوق کا حساب دینا پڑے گا اسی جانوروں کے باے میں کی گئی حق تلفی پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا