غلام علی اخضر
کسی ملک کی بربادی اور وہاںکی امن و شانتی غارت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہاں کی اقلیت کا عدالت سے بھروسہ اُٹھ جائے اور اکثریت کے دماغ میں یہ خطرناک خیال یقین میں تبدیل ہوجائے کہ وہ جو چاہے گا ملک میں وہی ہوگا۔کسی کا قتل کرنا عظیم جرم ہے۔مقتول توختم ہوتاہے اور قاتل تو قتل ہی یہ ٹھان کرتا ہے کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا، لیکن ان دونوں سے جُڑے نہ جانے کتنے معصوم بے سہارا ہوجاتے ہیں ۔ ایک سنجیدہ سماج کبھی کسی ناحق قتل کو جائز قرار نہیں دے سکتا ہے چہ جائے کہ وہ سرکاری نوکرشاہوں کے ذریعے ہوا ہو۔لیکن موجودہ وقت کا انداز بدل چکا ہے ۔ نفرت اور ذات پاک کی پرستش نے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کے ملکہ پر فالج مار دیا ہے۔ رہا میڈیاتواسے ملک کے باشندوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ ا ب وہ ہر روز سازش اور سماج میں زہر گھولنے کا کام کررہا ہے۔اب خبر ایجنسیوں اور میڈیا ہائوسزمیں سر پرکفن باندھ کرصحیح خبروں کو سامنے لانے والے نڈر اوربے خوف جرنلسٹ /صحافی نہیں بیٹھتے بلکہ اب تو سوٹ بوٹ والے سرمایہ داروں کا غلام یاکسی اشاروں پر ناچ اور مجرا کرنے والی رکھیلوں نے ان جگہوں پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ آج ہم کسی بھی واقعہ کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اس کے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔حیدرآباد میں ۲۷ نومبر ۲۰۱۹کو ۲۷سال کی ایک ویٹنری ڈاکٹر کا اغوا کرکے اس کی عصمت دری کی گئی اور پھر اس کی لاش شاد نگر علاقے کے ایک پل کے نیچے جلی ہوئی حالت میں ملی۔ اس الزام میں محمد عارف، چنتا کنٹا، چینا کیشورلو، جولو شیوا اور جولونوین کو کچھ ہی گھنٹوں بعد این ایچ ۴۴ پر پولیس والوں نے انکائونٹر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پورے ملک میں پولیس والوں کی واہ وا ہی ہونے لگی۔ انکائونٹر پر چینلوں سے سوال اٹھنے کے بجائے خوب اس کی مدح خوانی کی گئی ، پولیس والوں کا پھولوں کی بارش سے استقبال کیا گیا۔ لیکن پھرانکائونٹر کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ نے جسٹس وی ایس سرپور کر کی صدارت میں جانچ کمیشن کی تشکیل دی اور جب۲۰مئی ۲۰۲۲ کو سپریم کورٹ کی جانچ کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی، تو انکائونٹر کو فرضی پایا گیا۔ہم اپنے سماج کو اپنی بری سوچ اور عادتوںسے ہرآن زہر آلود بنارہے ہیں جس کا ہم خود ایک روز شکار ہونے والے ہیں اور ہورہے ہیں۔
کسی بے گناہ کا قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے۔اودے پور میں جو ہوا کسی طور پر بھی ایک سنجیدہ سماج کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔اس دل دہلانے والے حادثے سے پورا ہندوستان سہم گیا۔ پورے عالم اسلام کو اس قتل نے شرمندہ کیا جس کی وجہ ہندوستانی مسلمان رنجیدہ اور پشیمان ہیں۔ بھارتیہ مسلمان اس کا کھلے طور پر مذمت کرتا ہے۔ اس کا عین ثبوت مسلم دانشوروں اور مذہبی رہنمائوں کا اعلانیہ تحریری /تقریری اس قتل کی مذمت کرنا اور ملک میں امن وسلامتی قائم کرنے کی اپیل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حالات اور واقعات ہی کیوں پیش آتے ہیں۔ پچھلی حکومت پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ سرکار کے دور حکومت پر ہی نظر ڈالیںتو لنچنگ اور قتل کے سیکڑوں واردات ہیں ، لیکن کیا عدالت نے مجرموں کو ایسی سزادی یا سماج نے کوئی ایسا قدم اٹھایا جس سے عوام میں کوئی ایساپیغام جائے جو اس طرح کے سوچ رکھنے والوں کے لیے درس عبرت ہو،تاکہ واردات انجام دینے کی بات تو چھوڑیے، وہم بھی نہ پیدا ہو؟ بلکہ اور بھی قاتلوں کا مٹھائی کھلا اورمالا پہناکر استقبال کیاگیا۔ کہیں بے رحمی سے قتل کرنے والے قاتل کے سپورٹ میں جھانکی نکالی گئی، کہیں جلوس ،تو کہیں نفرت انگیز بیان دینے والوں کو اعلیٰ عہدے سے سرفراز کردیاگیا۔نفرت پھیلانے والے مذہبی رہنمائوں پر جو کڑی کارروائی ہونی چاہیے تھی وہ نہیںہوئی اور نہ ہوتی ہے، بلکہ وہ اکٹیوسٹ یا جرنلسٹ جو گنہ گاروں کو بے نقاب کرتے ہیں انھیں ہی سلاخوں میںڈال گیا ،جو ہنوز جاری ہے۔ تو ہم کیوں ایک خون خرابے سے پاک سماج اوربھارت مہان کا خواب دیکھتے ہیں؟
مذہبی گورکھ دھندے نے پوری دنیا کو جہنم بنادیا ہے۔ کیا واقعی مذہب انسانیت کا دشمن ہے؟ آج پوری دنیا میں مذہب کے نام پر انسانیت کا جو جنازہ نکل رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر تمام مذاہب کا پیغام امن و سلامتی اور محبت کا فروغ ہے تو پھر پوری دنیا میں اس کے پیروکار کیوں ٹانڈو مچارہے ہیں۔ خون خرابے کیوں؟ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ مذہب کی تعلیم پیغام انسانیت نہیں ہے؟ اور اگر ہے؟ موجودہ حالات کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ جو مذہب پیروکار کو اس کے پرافٹ سے ملاتھااب وہ نفس مذہب نہیں ہے، بلکہ مذہب کے ٹھیکیداروں نے اپنی دکان چلانے کے لیے مذہب کے احکام کو کچھ سے کچھ کردیاہے۔ نوپور شرما کے گستاخانہ بیان سے عالم اسلام میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی، لیکن بر وقت سرکار نے ان پر کارروائی نہیں کی۔ جب عالم اسلام سے ہندوستان پر دابائو اور مصنوعات کابائیکاٹ شروع ہوا تو پھراسے پارٹی سے برخواست کیا گیا ۔ انڈین مسلم نے معقول سزا دینے کے نام پر احتجاج کیا جو کچھ پولیس کی دمن کاری اور نااہل لوگوں کے وجہ سے پُرامن کے بجائے بعض جگہوں پر کچھ تشدد میں بدل گیاجس کے خلاف گودی میڈیا،جھاکھنڈ اور یوپی پولیس اور یوپی سرکارنے جورویہ اختیار کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک کمیونٹی پر ٹارگیٹڈکارروائی کی جارہی ہے۔ اور یہ شک اس سے بھی دور ہوتا ہے کہ جب اگنی پت کے خلاف پُرتشدد احتجاج کیا گیااور ملک بھر میں ہزاروں کروڑ کا نقصان ہوا لیکن یہاں میڈیا ، پولیس اور سرکاروں کا بالکل رویہ بدل گیا ۔خیر! ابھی اس کی آگ بجھی بھی نہ تھی کہ مہاراشٹر کی حکومت کا کھیل شروع ہوگیا۔جس آسام میں سیلاب سے لاکھوں آدمی بے گھر ہیں اور سیکڑوں جانے اب تک جاچکی ہیں اس سے دھیان بھٹکانے کے لیے باغی نیتائوں کو وہاں کے فائیو اسٹار ہوٹل(سات دن کاخرچ ۳۹ کروڑ۲۰لاکھ) میں ٹھہرا یا گیا۔ پھرجوسرکارکا منشا تھاوہ پواہوا یعنی جہاں پریشان آسامیوں کا درد بیان ہونا چاہیے تھا کاسہ لیس چینلوں نے اسے سیاسی مرکز کے طور پر پیش کیا۔
مذہب کے آڑ میں سیاست نے پورے ملک میںایسا زہر گھول دیا ہے کہ اب مجرم کا مذہب دیکھ کر عوام سزادینے کی آواز بلند کرتی ہے جس میںپولیس اور سرکاریں بھی پیش پیش رہتی ہیں۔ اُودے پور میں جو ہوا ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں لیکن اسی ہندوستان میں افروزل، تبریز، اخلاق، پہلو خان اور انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ وغیرہ کا جب قتل ہوا ہندوستان کی اکثریت، اقلیت، نفرتی میڈیا ہائوسز، پولیس ،سیاست اورسرکاریں اگرحق بجانت ہوتیں تو شاید آج ہندوستان کا یہ منظر نہ ہوتا۔ اگرسرکاریں چاہتی ہیں کہ ملک میں امن بحال رہے تو پہلے گودی میڈیا پر لگام لگائے۔ نفرت پھیلانے والوں پر صحیح کارروائی کرے۔اب تو سپریم کورٹ نے بھی اس بات کو صاف کردیا ہے کہ نوپور شرما پورے ملک کے لیے خطرہ ہے اور اودے پور میں جو ہوا اس کا ذمے دار نوپور ہی ہے،نوپور شرما کی وجہ سے عدالت نے دہلی پولیس کو بھی کھڑی کھڑی سنائی،لیکن اب دہلی پولیس کوعدالت کی پھٹکار سننے کی عادی ہوچکی ہے۔ آخر میں اقلیت کے رہنمائوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ جذباتی نعروں اور تقریروں سے گریز کریں کیوں کہ اس سے نتیجے اور بھی مایوس کن برآمدہوتے ہیں، جس سے اور بھی ہمارے ہی خلاف ماحول تیار ہوتاہے۔اگر مسلمان چاہتاہے کہ اس کا احتجاج کامیاب ہوتو پھر اسے طریقۂ کار بدلنا ہوگا۔