فوج کی ملٹری انجینئرنگ سروس (ایم ای ایس) میں جعلی بھرتی اسکینڈل کا پردہ فاش

0
0

05 ملزمان گرفتار جعلی نوکریوں کے آرڈر بطور ثبوت ضبط کئے گئے
یو این ائی
سری نگر؍؍جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں ملٹری انجینئرنگ سروس (ایم ای ایس ) میں ایک جعلی بھرتی اسکینڈل کا پردہ فاش کرکے پانچ افراد کو گرفتار کیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ یکم ستمبر 2023کوممتاز احمد میر ساکن گنڈ زونہ ریشی چوکی بل نے پولیس اسٹیشن کرالہ پورہ میں تحریری طورپر شکایت درج کی کہ اس کے بیٹا محمد سمیع میر کو نذیر احمد خان ساکن دولی پورہ ترہگام نا می شخص نے فوج کی ملٹری انجینئرنگ سروس میں بھرتی کرانے کی خاطر جعلی تقرری کا آرڈردے کر 70ہزار روپیہ کا چونا لگایا۔
پولیس نے فوری کارروائی عمل میں لا کر اس ضمن میں 76کے تحت ایک کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی۔موصوف ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران اہم گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے اور جعلی نوکریوں کے آرڈر بطور ثبوت ضبط کئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ نذیر احمد خان نامی جعلساز کو دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا اور دوران پوچھ تاچھ اس نے بھرتی اسکینڈل میں ملوث مزید چار افراد جن کی شناخت ظہور احمد میر ساکن راوتھ پورہ ، شکیل احمد مکرو ساکن اونتی پورہ ، فیروز احمد ساکن شالہ ٹینگ سرینگر اور شفاقت احمد شاہ ساکن پانپور پلوامہ کے بطور ہوئی کے نام ظاہر کئے۔پولیس نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کا لا کر اس اسکینڈل میں ملوث مزید چار افراد کی بھی گرفتار عمل میں لائی۔ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ شکیل احمد مکرو ماسٹر مائنڈ ہے جس نے اپنا نام راجو(کشمیری پنڈت) بتا کر سری نگر کے رنگریٹھ علاقے میں فوج کی انجینئرنگ سروس میں بطور آفیسر ظاہر کررہا تھا۔ان کے مطابق شکیل احمد مکرو نے ظہور احمد میر، فیروز احمد اور نذیر احمد خان کو مختلف علاقوں میں روزگار کے متلاشی افراد کو دھوکہ دے کر ان سے رقومات اینٹھ لینے کا کام سونپا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شفقت احمد شاہ جعلی نوکری کے آرڈر ز اور دیگر دستاویزات کو تیار کرکے انہیں پرنٹ کرتا۔ وہ رنگریتھ سری نگر میں ہیلپ لائن ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کام کرتا تھا جہاں اس نے مذکورہ جعلی دستاویزت تیار کئے۔موصوف ترجمان نے بتایا کہ اسکینڈل میں ملوث جعلسازوں نے شمالی کشمیر میں آٹھ بے روزگار نوجوانوں کو دھوکہ دے کر ان سے 25لاکھ روپیہ کی رقم اینٹھ لی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملزمان کے قبضے سے جعلی نوکریوں کے آرڈرز، گیٹ پاسز ، لیپ ٹاپس ، ڈیسک ٹاپس ، پرنٹرس اور موبائیل برآمد کرکے ضبط کئے گئے۔انہوں نے مزید بتایاکہ اس کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔پولیس نے اس کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا