لندن، //نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اسرائیل کی بربریت پر فلسطینیوں کے حق میں سامنے آگئیں۔
ملالہ یوسفزئی نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم پر کہا کہ اجتماعی سزا مسئلے کا حل نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی نصف آبادی کی عمر 18 برس سے کم ہے اور انہیں ساری زندگی بموں کا سامنا کرنے پر مجبور نہیں رہنا چاہیے۔
گزشتہ رات (17 اکتوبر کو) غزہ شہر کے الاہلی عرب ہسپتال پر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔
وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں طبی عملہ، مریض اور بے گھر ہونے والے افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے ہسپتال پر حالیہ بمباری کے بعد ملالہ یوسف زئی نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے ویڈیو پیغام کے کیپشن میں لکھا کہ ’غزہ شہر کے الاہلی ہسپتال پر بمباری کا واقعہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوں، میں اس واقعے کی واضح الفاظ میں مذمت کرتی ہوں، میں اسرائیلی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ غزہ میں خوراک اور ادویات کی امداد کی فراہمی کی اجازت دی جائے اور سیز فائر کا بھی مطالبہ کرتی ہوں۔اس کے علاوہ ملالہ یوسف زئی نے غزہ کے لیے 3 لاکھ ڈالرز کی امداد کا بھی اعلان کیا۔
اس کے علاوہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں یہاں فلسطین، اسرائیل اور دنیا بھر میں امن کے لیے پکارنے والے لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے آئی ہوں، سب کو سزا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے، غزہ میں نصف افراد کی عمر 18 سال سے کم ہے انہیں پوری زندگی بمباری اور ناجائز قبضے میں گزارنے پر مجبور نہ کیا جائے، میں ہر شخص سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ فلاحی اداروں کو عطیہ کریں جو غزہ میں انسانی امداد فراہم کر رہی ہیں‘۔