عام صارفین کو جی ایس ٹی سے راحت ملی ہے: سیتا رمن

0
0

زیادہ تر غیر برانڈڈ یا غیر پیکج کھانے کی اشیاء جیسے پنیر، دودھ، دہی، اناج وغیرہ پر کوئی ٹیکس نہیں
یواین آئی

نئی دہلی؍؍وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کو گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) قرار دینے کی سخت تنقید کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ بالواسطہ ٹیکس کی سمت میں یہ بے مثال اصلاحات پہلے سے بہتر ہے۔ 2015 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد شرحوں میں کمی سے صارفین کے ساتھ انصاف ہوا ہے اور عام صارفین کو راحت ملی ہے۔جی ایس ٹی کے نفاذ کے چھ سال مکمل ہونے کے موقع پر سنٹرل بورڈ آف بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز (سی بی آئی سی) کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام میں محترمہ سیتا رمن نے عام ضرورت کی اشیاء پر جی ایس ٹی سے پہلے اور بعد کی تقابلی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خوراک اور مشروبات کی اشیا پر ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر غیر برانڈڈ یا غیر پیکج کھانے کی اشیاء جیسے پنیر، دودھ، دہی، اناج وغیرہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہیئر آئل، الیکٹرانک مصنوعات، گھریلو استعمال کی الیکٹرانک اشیاء کے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے کارآمد آلات پر جی ایس ٹی سسٹم میں ٹیکس میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جی ایس ٹی کے حوالے سے غلط اور گمراہ کن معلومات دی جاتی ہیں اور لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل ملک کا بالواسطہ ٹیکس نظام بکھرا ہوا تھا جس میں تمام ریاستوں میں ہر صنعت کے لیے الگ الگ بازار اور صارفین کے لیے اسی طرح کے انتظامات تھے۔ جی ایس ٹی سے پہلے کے ٹیکس نظام میں ایک ہی اشیا پر ٹیکس پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔جی ایس ٹی کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں کمی آنے کے اعداد و شمار پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی سے پہلے ریاستوں کے ٹیکس میں 8.3 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی شرح نمو 11.5 فیصد تھی۔ جس کی وجہ سے جی ڈی پی گروتھ کے مقابلی میں ٹیکس میں اضافہ کم تھا اس کے برعکس، جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 9.8 فیصد رہی ہے جبکہ ریاستوں کی ٹیکس آمدنی میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نتیجے کے طور پر آمدنی میں اضافے کی شرح جی ڈی پی سے زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نقصان کی طلافی کی وجہ سے ریاستوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے تو یہ غلط ہے۔ معاوضہ ٹیکس کے بغیر محصولات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جی ایس ٹی سے ریاستوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں جی ایس ٹی کی شرحوں کو معقول بنانے سے عام لوگوں کو راحت ملی ہے۔ جی ایس ٹی کی شرحوں کا باقاعدہ وقفوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور شرحوں کو معقول بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے جی ایس ٹی کو ملک کے معاشی انضمام کے لیے ایک اصلاحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس نظام اتنا آسان ہونا چاہیے کہ ملک کا سب سے چھوٹا تاجر بھی اس کی تعمیل کرنے کے لیے آگے آسکے۔اس پروگرام میں سی بی آئی سی کے افسران کی روزمرہ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے "پرتیدی” کے نام سے ایک پہل کی بھی شروعات کی گئی اور سی بی آئی سی کے ان افسران اور ملازمین جنہوں نے بہتر اور نمایاں کام کیا ہے، انہیں توصیفی سند کے ذریعے اعزاز سے نوازا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا