رخشاں ھاشمیمونگیرزخم کتنے پیارے ہیںزخم کتنے اچھے ہیںزخم کتنے میٹھے ہیںزخم کتنے سچے ہیںزخم حوصلہ دل کازخم سلسلہ دل کازخم سے شناسائیزخم فیصلہ دل کازخم ایک، خوشبو ہےزخم ایسا جادو ہےزخم عشق کا مرکززخم دل کے ہر سو ہےزخم خوبصورت بھیزخم سے عقیدت بھیزخم سے پشیماں ہیںزخم سے ہے برکت بھیزخم ایک سچائیزخم سے ہے پروائزخمِ دل تمنائیزخم کی ہو ترپائیزخم پر نچھاور ہےزخم تیری گہرائیزخم حد سے زیادہ ہےزخم کا یہ وعدہ ہےبے قرار دھڑکن کازخم کتنا سادہ ہےدلکشی اِسی سے ہےزندگی اِسی سے ہےروشنی اِسی سے ہےعاشقی اسی سے ہےزخم نے سنوارا ہےزخم نے نِکھارا ہےعِشق کے مسافر کازخم ہی سہارا ہےہجر کا حوالہ ہےزخم تو نرالا ہےزندگی کے ہر غم کوزخم ہی نے پالا ہےبس یہی گذارش ہےاور دل کی خواہش ہےمت کہو برا اسکوزخم ایک دولت ہےزخم ہی میں لذت ہےزخم ہی کریدیں ہمآؤ تھوڑی فرصت ہےزندگی ہری ہے بسزخم تیرے ہی دم سےزخم تیرے موسم سےیہ فضا رہے ایسیزخم بھی رہے تازہزندگی کے گلشن کاباغباں دعا کرنازخم پھر عطا کرنا