زخم نامہ

0
0
رخشاں ھاشمی
مونگیر
زخم کتنے پیارے ہیں
زخم کتنے اچھے ہیں
زخم کتنے میٹھے ہیں
زخم کتنے سچے ہیں
زخم حوصلہ دل کا
زخم سلسلہ دل کا
زخم سے شناسائی
زخم فیصلہ دل کا
زخم ایک، خوشبو ہے
زخم ایسا جادو ہے
زخم عشق کا مرکز
زخم دل کے ہر سو ہے
زخم خوبصورت بھی
زخم سے عقیدت بھی
زخم سے پشیماں ہیں
زخم سے ہے برکت بھی
زخم ایک سچائی
زخم سے ہے پروائ
زخمِ دل تمنائی
زخم کی ہو ترپائی
زخم پر نچھاور ہے
زخم تیری گہرائی
زخم حد سے زیادہ ہے
زخم کا یہ وعدہ ہے
بے قرار دھڑکن کا
زخم کتنا سادہ ہے
دلکشی اِسی سے ہے
زندگی اِسی سے ہے
روشنی اِسی سے ہے
عاشقی اسی سے ہے
زخم نے سنوارا ہے
زخم نے نِکھارا ہے
عِشق کے مسافر کا
زخم ہی سہارا ہے
ہجر کا حوالہ ہے
زخم تو نرالا ہے
زندگی کے ہر غم کو
زخم ہی نے پالا ہے
بس یہی گذارش ہے
اور دل کی خواہش ہے
مت کہو برا اسکو
زخم ایک دولت ہے
زخم ہی میں لذت ہے
زخم ہی کریدیں ہم
آؤ تھوڑی فرصت ہے
زندگی ہری ہے بس
زخم تیرے ہی دم سے
زخم تیرے موسم سے
یہ فضا رہے ایسی
زخم بھی رہے تازہ
زندگی کے گلشن کا
باغباں دعا کرنا
زخم پھر عطا کرنا

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا