دَل بدلنے کی سیاست:عوامی جذبات اور جمہورت کے ساتھ کھلواڑ

0
0

حافظ منور احمد

دل بدلنے کی سیاست کی ایک اور واقعہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ یہاں دل بدلنے کا کھیل اس لئے نہیں کھیلا گیا کہ ان کی سرکار بن رہی ہے۔بلکہ صرف اپنی پارٹی کی حدودکو دیگر پارٹیوں سے وسیع اور اونچا دکھانے کے لیے کھیلا گیا۔ اس طرح سے ایک طرف جنتا کے ساتھ بے وفائی کی گئی دوسری طرف ایک ابھرتی ہوئی پارٹی کو پیچھے دھکیلنے کا کام کیا گیا۔ اوریہ کام اس پارٹی نے کیاہے جس پارٹی کے سپریمو خود اقلیتوں سے کبھی اپیل کرتے تھے کہ سیاست میں اپنی حصہ داری کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔یعنی بہار میں قانون ساز کے مانسون اجلاس کے دوران گزشتہ 29جون 2022کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے چار ایم ایل اے راشٹریہ جنتادل(آرجے ڈی) میں شامل کرایا گیاہے۔
اگر بھارت کے سیاسی پارٹیوں میں دل بدلی کا نظام اور سیاست قائم رہا تو جمہوریت کو نقصان ہوتا رہے گا۔اختلاف رائے رکھنا اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بے وفائی کرنے کو ہمارے یہاں سیاسی تدبر قرار دیا جاتا ہے اور اس کی سراہنا کی جاتی ہے۔ سادہ اکثریت سے بر سر اقتدار آنے والی سیاسی جماعتوں کا پانچ سال تک ثابت قدم نہ رہ پانا در اصل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا تصور صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہے۔
کرناٹک میں کمارا سوامی کی حکومت گرانے کے بعد سے دل بدلنے کایہ کھیل شروع ہوا ۔جس کا دائرہ اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ منتخب نمائندوں کے نظریات اور وفاداری کے اوصاف کی کتنی کمزوری ہے۔ اس کی وجہ سے ہی جمہوریت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ دل بدلی کا رجحان اب تمام ریاستوں میں پھیل گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ رجحان یہاں طویل عرصے تک رہے گا۔مدھیہ پردیش کے سابق لوک سبھا سپیکر ابی رائے نے کہا تھا، ’’اختلاف رائے کا اظہار ایک آزاد سماج کی علامت ہے لیکن یہ اختلاف رائے بدنیتی پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
کیاسیاسی جماعتیں انتخابات لڑنے کیلئے اُمیدواروں کاچناؤ ان کے عہد و پیمان اور ان میں جوابدہی کے جذبے کو دیکھ کر کرتی ہے؟۔عمومی طور پر سیاسی جماتیں ذات اور مذہب دیکھ کر اُمید وار چنتے ہیں۔ دولت مند اور طاقتور اُمیدواروں کا چاہے مجرمانہ پس منظر ہی کیوں نہ ہو، ان دنوں انہیں ہی الیکشن لڑنے کیلئے مناسب اُمیدوار سمجھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر کو دیکھ کر انہیں الیکشن کیلئے پارٹی منتخب کرتی ہے اور یہ لوگ بھی موقعہ دیکھ کر کود پڑتے ہیں۔ سال 1985ء کے دل بدلی قانون میں بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ا گر دل بدلی کو قابو نہیں کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جمہوریت کی بنیادوں کو نقصان پہنچے گا۔ سال 1957ء سے لیکر 1967تک دل بدلی کے 542معاملات ہوئے۔ جن میں کانگریس پارٹی نے 419دل بدلوں کو قبول کیا۔ سال 1967سے 1983ء تک دل بدلی کے 2700معاملات دیکھنے کو ملے۔ ان دل بدلنے والوں میں سے 212کو وزارتیں ملیں اور ان میں پندرہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔سابق دل بدلی قانون کے نتیجے میں انفرادی دل بدلی پر روک تو لگ گئی لیکن اس کے نتیجے میں گروہی دل بدلی کو عروج ملا۔
تاہم سال 2004میں آئین کی 91ویں ترمیم میں کہا گیا کہ دو تہائی اراکین کی دل بدلی کو پارٹی میں دو پھاڑ ہونا قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس ترمیم کے بعد فیصلے کا حتمی اختیار اسپیکرکو مل گیا ہے۔ اب استعفیٰ دینے کے بعد نئی پارٹی کے انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑ کر وزارتیں حاصل کرنا نیا طریقہ کار بنتا جارہا ہے۔امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک جہاں مضبوط سیاسی نظام موجود ہے وہاں دل بدلی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ جان میئر کی حکومت کا سادہ اکثریت کے بل پر اپنی معیاد پورا کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی نظام کتنا مضبوط ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کرناٹک کے دل بدلی کیس کا جائزہ لیتے ہوئے تنازعہ کا حل کے لیے ایک میکانزم کا تذکرہ کیا۔ اس نے بتایا کہ جب تک سیاسی جماعتیں تنگ نظری کا شکار رہیں گی، دل بدلی کا رجحان قائم رہے گا اور اسکے نتیجے میں جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا