جھارکھنڈ میں مسلم مجاہدین آزادی ہو رہے ہیں نظر انداز!

0
0

عارف شجر

15 نومبر 2000 کو بہار سے جھارکھنڈ الگ ہوا تھا، آج یہ ریاست بالغ ہوچکاہے، کہا یہ جاتا ہے کہ جب کوئی بالغ ہو جاتا ہے تو وہ اپنی منزل کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اس کے لئے وہ ہر وقت ہرگھڑی اور ہرلمحہ سرگرم عمل رہتا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس بالغ ریاست نے ابھی تک کوئی ایسا کارنامہ کرکے نہیںدکھایاہے جس سے اس کی بلوغیت ہونے پر ناز کیا جا سکے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جھارکھنڈ تشکیل کے بعد سے یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ یا یوں کہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ، چاہے وہ جھارکھنڈ کی ترقی میں مسلمانوں کی حصہ داری ہو ، نوکری میں ہو یا پھر مسلم اداروں کی تشکیل میں ہو سبھی محاذ پر اقلیتوں کو سر سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجے کہ جھارکھنڈ تشکیل کے بعد سے ہی جھارکھنڈ کے مجموعی آبادی کا14.53 فیصد مسلمان سابقہ اور موجودہ حکومت کے ناروا سلوک کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ملک کے آئین اور قانون میں اقلیتی طبقہ کے مفادات، زبان اورر مذہبی تشخص کی حفاظت کی گارنٹی دی گئی ہے لیکن جھارکھنڈ میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ کہنے کو یہاں عوامی منتخب جمہوری حکومت کام کر رہی ہے لیکن ریاست کی 14.53 فیصدکی اتنی بڑی آبادی کے ساتھ جس کھلم کھلا اور شرم ناک طریقے سے امیتازی سلوک کیا جا رہا ہے وہ ا نتہائی افسوس ناک اور حیرت انگیز ہے ایسا لگتا ہے کہ ریاسست جھارکھنڈ میں مسلم آبادی کاکوئی حق و حقوق نہیں ہے ۔
جھارکھنڈ سے مسلم مجاہدین آزادی اورمسلم عظیم ہستیوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک کی خبر آ رہی ہے وہ بے حد افسوس ناک بھی ہے اور حیرت انگیز بھی ہے۔ خبر یہ ہے کہ جھارکھنڈ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ04-12 کلاس تک کی کتابوں میں مجاہدین آزادی، جھارکھنڈ ، مسلم جھارکھنڈ آندولن کاری اور جھارکھنڈ کی عظیم شخصیات کی سوانح حیات سے متعلق مواد شائع کرنے جا رہی ہے جس میں مسلم مجاہدین آزادی کو جگہ نہیں دی گئی ہے جبکہ جھارکھنڈ مسلم مجاہدین شہید بھکاری، نادر علی، امانت علی، سلامت علی اور شیخ ہارون نے 1857 کے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا، وہیں جھارکھنڈ آندولن کاری عصمت علی نے1912 میں برطانوی حکومت کے سامنے علیحدہ جھارکھنڈ ریاست کا مطالبہ کیا تھا جبکہ منطورالخاں نے جھارکھنڈ تحریک میں اہم رول ادا کیا تھا، عظیم الدین میرداہا جسے ناگپوری شاعری کا رسخان بھی کہا جاتا ہے جن کی کتابیں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن میں شامل ہیں اور پدم شری مدھو منصوری ہیں ان اہم شخصیات کا نام ان 42 لوگوں میں نہیں ہے جو جھارکھنڈ سرکاری اسکول کے نصاب میں شامل کئے جانے ہیں ، جھارکھنڈ سرکار نے اسے پوری طرح سے نظر انداز کرنے کا کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں آمیا تنظیم و جھارکھنڈ چھاتر سنگھ کے صدر ایس علی نے جھارکھنڈ سرکار کی اس امیتازی سلوک کو دیکھتے ہوئے سخت برہمی کا ا ظہار کیا ہے ۔ا یس علی نے کہا ہے کہ جھارکھنڈ کے عظیم شخصیات کے سوانح حیات کو جھارکھنڈ کے نصاب میںشامل کرنا قابل ستائش ہے لیکن اس میں مسلم مجاہدین آزادی اور جھارکھنڈ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے آندلن کاری کا نام شال نہ کرنا جھارکھنڈ سرکار کی نیت کو صاف واضح کرتا ہے کہ وہ مسلم دشمن والا رویہ اپنا رہی ہے۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ جھارکھنڈ میں سیکولر سرکار چل رہی ہے جس میں دو مسلم وزیر بھی بنئے گئے ہیں عالم گیر عالم اور حفیظ الحسن ایک کانگریس سے وزیر ہیں اور ایک جھارکھنڈ مکتی مورچہ سے وزیر بنے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے مسلمانوں کے حقوق، انکے آنکھوں کے سامنے چھینے جا رہے ہیں لیکن انہیں ذرا بھی اس بات کا احساس نہیں ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سی ایم ہیمنت سورین کے سامنے مسلمانوں کے حقوق کو رکھنے سے گھبراتے ہیں کہیں انہیں اپنے وزارت سے ہاتھ نہ دھونا پڑے یا پھر انکی ہیمنت سورین کے سامنے نہیں چلتی۔ جھارکھند میں کانگریس قائد فرقان انصاری کی یاد آ جاتی ہے، مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ جھارکھنڈ کے واحد لیڈر فرقان انصاری تھے جنہوں نے مسلم حقوق کی آواز بھر پور طریقے سے اٹھاتے رہے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے ہی پارٹی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے تھے انہیں کئی مقام پرنقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن وہ مسلم حقوق کے لئے پیچھے نہیں ہٹے فی الحال فرقان انصاری ایم پی نہیں ہیں لیکن انکی تحریک جھارکھنڈ کے لوگوں کو اب بھی یاد ہے۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہہ جھارکھنڈ میں فی الحال 4 مسلم قائدین ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے مسلم حقوق کے لئے کام نہیں کیا ، اگر سرگرم ہوتے تو جھارکھنڈ کے نصاب میںمجاہدین کے نام کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ میں ایم ایس علی صاحب کی تعریف کروں گا جنہوں نے جھارکھنڈ کے لوگوں کے علاوہ جھارکھنڈ سرکار میں بیٹھے مسلم قائدین کا دھیان مبذول کرانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔
جھارکھنڈ کی بدنصیبی کہہ لیجئے کہ جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد انہیں جو مرعات ملنے چاہئے تھے وہ نہیں مل سکے ہیں، جھارکھنڈ میںنہ تو اب تک اردو اکیڈمی تشکیل دی گئی ہے اور نہ ہی مدرسہ بورڈ اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا کام عمل میں آیا ہے جبکہ جھارکھنڈ بنے23 سال کا عرصہ ہونے والا ہے ۔جھارکھنڈ جیسی ریاست میں جہاںکل آبادی کا14.53مسلم آبادی ہے وہاں ان کے حقوق کے تئیں اس قدر لاپرواہی اور امتیازی سلوک اس لئے بھی قابل مذمت اور شرمناک ہے کہ یہ کھلم کھلا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے افسوس ناک یہ بھی ہے کہ جھارکھنڈ حکومت میں جو حکومت چل رہی ہے اس میں خود کو علاقائی اور جمہوری کہنے والی جھارکھنڈ مکتی مورچہ بھی شامل ہے جسے انتخاب میں مسلمان کھل کر اپنی حمایت دے کر سرکار میں بھجتے ہیں جے ایم ایم کے زیادہ تر ممبران اسمبلی مسلم ووٹوں کی بدولت ہی اسمبلی کا آج منھ دیکھ رہے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کو انکا حقوق دینے کے نام پر انکی زبان گنگ ہے، کوئی نہیں بولتا کہ مسلمانوں کے ساتھ آخر کیوںناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔مسلم ممبران اسمبلی کی اب بھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تو کب جاگیں گے، اردو اکیڈمی، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور مدرسہ بورڈ کی تشکیل انتہائی ضروری ہے ۔ اس لئے جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس امور پر تبادلہ خیال ہی نہ کریں بلکہ تحریک کی ضرورت پڑے تو تحریک بھی کی جائے تبھی جھارکھنڈ سرکار کی نیند کھلے گی۔ البتہ فوری طور پر جھارکھنڈ کے عظیم شخصیات کے سوانح حیات کو جھارکھنڈ کے نصاب میںشامل کرنے کی کی کوشش کی جائے اور اس مہم میں ایس علی کا ساتھ دیا جائے تبھی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والی حکومت عملی جامہ پہنانے میں سرگرم ہوگی۔۔۔۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا