جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتیں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں :ڈاکٹرشہزادملک

0
0

BGSBU اور شری ماتا ویشنودیوی یونیورسٹی میںخصوصی قلیل مدتی روزگار کورسز شروع کرنے کی مانگ کی
منظور حسین قادری
پونچھ؍؍آل جموں و کشمیر بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ کانفرنس جو کہ ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے جو جموں اور کشمیر کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے، نے جموں یونیورسٹی، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ خصوصی قلیل مدتی ملازمت پر مبنی کورسز شروع کریں تاکہ جموں اور کشمیر کے نوجوانوں کو ان کے مقامی کیمپس میں خصوصی مہارتیں فراہم کی جا سکیں تاکہ وہ عزت کے ساتھ روزی روٹی ودیگر ضروریات کو پورا کریں۔ بی اے ڈی سی کے چیئرمین اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چونکہ جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتیں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو قلیل مدتی سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کورسز کے ذریعے خصوصی ہنر سیکھنے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ نہ صرف اپنے ذریعہ معاش کمانے کے قابل بنیں بلکہ دوسروں کو روزگار فراہم کر سکیں ڈاکٹر شہزاد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ یونیورسٹیاں فاصلاتی انداز کے ذریعے خصوصی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری کورسز بھی شروع کریں تاکہ پہلے سے کام کرنے والے افراد بھی اپنے کیرئیر کو اپ گریڈ کرنے کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دیگر یونیورسٹیوں کے برعکس، جموں و کشمیر کی یونیورسٹیوں میں طلباء کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کو اپنانے کی رفتار بہت سست ہے جس کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا