مندروں کاشہرجموں مختلف معاملات میں اپنی منفرد شناخت رکھتاہے،یہاں کے لوگ انتہائی ملنساراورمہمان نوازہیں،جموںامن وامان کاشہرہے جس نے ہرمصیبت کے مارے کوقبول کیااور پناہ دی،نامسائدحالات سے لیکراب تک یہ اپنی روایت کوبرقرار رکھے ہوئے ہے،دفعہ370کے خاتمے کے بعداِسی شہرپرایک مرتبہ پھربہت زیادہ ذمہ داریاں پڑی ہیں،پھریہی شہرسبھی کاپسندیدہ شہربناہے، جموں شہرمیں دیگرریاستوں کے ہنرمندوغیرہنرمندروزگارکے متلاشی بھی بڑی تعدادمیں پہنچے ہیں اورجہاں بھی روزگارکاموقع ملتاہے چاہے وہ ریڑھی پھڑی ہویاای رکشاہو،ہرجگہ یوپی۔بہار۔اڑیسہ ودیگر ریاستوںکے لوگ پیش پیش ہیں،ای رکشاکی آمدسے اہلیانِ جموں کویقیناٹرانسپورٹ کے معاملے میں بڑی راحت ملی اوررکشامیں چلناان کے بس کی بات ہوگئی کیونکہ اس سے قبل جموں وکشمیرکے ان فی الحال پریشان حال ’کالے آٹورکشا‘والوں کی کالی کرتوتوں کی وجہ سے آٹومیں سفرکرنایعنی اپنی چمڑی اُدھیڑنے جیسارہاہے، ہرکسی مسافرکی زبان سے اکثرایسے ایسے جملے سننے کوملتے ہیں کہ یہ آٹو والے من چاہاکرایہ وصولتے ہیں،جہاں پچاس روپے وہاں200اورجہاں100روپے وہاں300اور 300کے بجائے500سے 700تک کاکرایہ وصول لیتے ہیں،ملک کی مختلف ریاستوں خاص طورپر دہلی ،ممبئی جیسے بڑے شہروں میں سفرکرکے آنے والے جب جموں کے ان کالے آٹومیں کبھی بیٹھنے پرمجبورہوجائیں توخون کے آنسوروتے ہیں کیونکہ دہلی ۔ممبئی کے برعکس یہاں کے ان کالے آٹوئوں کاکرایہ آسمان کوچھونے والامعلوم ہوتاہے،مجموعی طورپراگرکہاجائے کہ سب سے زیادہ مہنگاآٹومیں سفراگرکہیں ہے یاتھاتووہ جموں شہرمیں تھاجہاں ٹریفک پولیس نے اپنے اپنے وقت میں ایڑھی چوٹی کازورلگایاکہ ان کالے آٹورکشائوں کو میٹرپہ چلایاجائے لیکن کوئی بھی ٹریفک پولیس کااعلیٰ سے آعلیٰ آفیسر اس مشن میں کامیاب نہ ہوسکا،یہ ایسامافیابن چکاتھا جس کے سامنے کسی کی نہ چلتی تھی، مسافروں، بیرون ریاست کے یاتریوں، سیاحوں،بیماروں،بارش کے چلتے مجبورشہریوں کو آٹورکشامیں بیٹھناپڑتاہے اورمجبوری کی حالت میں وہ انہیں منہ مانگاکرائے دینے پرمجبورہوتے ہیں۔لیکن اب قریب ایک برس سے جموں شہر کاپبلک ٹرانسپورٹ نظام بدل رہاہے،ان کالے آٹورکشائوں کے بجائے اب ای رکشا،اورنیلے آٹوآگئے ہیں جو20روپے سے30روپے کرایہ لیکرمسافرکواُس کی قریبی منزل تک پہنچالیتے ہیں جہاں کالے آٹو کم از کم ڈیڑھ سوسے200تک کرایہ وصولتے ہیں،اب متبادل قبل قدم پردستیاب ہونے کی وجہ سے عام لوگ ان میں چاہے اسپتال جانے والے مریض ہوں،یامریضوں کی خیریت پوچھنے یااُن کیلئے کھانالیجانے والے تیماردارہوں، یاتری ہو،سیاح ہویاکوئی بارش سے بچنے کیلئے اپنے دفترکاگھرپہنچناچاہتاہواُسے ای رکشامنٹوں میں دستیاب ہوتی ہے اور وہ اِسے معمولی اورمناسب کرائے پراس کی منزل تک لیجاتی ہے ،ایسے میں کالے آٹورکشائوں کے ظلم وستم بھلاکون برداشت کرے اورکیوں انہیں منہ لگائے،یہ صورتحال ان کی خودکی پیداکردہ ہے،اگریہ بھی ملک کی دیگرریاستوں کی طرح میٹرپر چلنے کی عادت ڈال لیتے تویقینامسافرمتبادل کی تلاش نہ کرتا،تاہم پھر بھی حکومت کوچاہئے کہ ان کیلئے متبادل انتظامات کئے جائیں یاانہیں راہِ راست پہ لایاجائے،میٹرپہ چلنے اورکرائے مقررکرنے کے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ بلاجھجک مسافرانہیںبرداشت کرسکے یاپھر ان کے جائز مطالبات پرغور کیاجائے کیونکہ ان کے بھی اہل وعیال دہائیوں سے اِسی پیشے کی بدولت پلتے ہیں،انہیں بھی اپنے کنبوں کی کفالت کرنی ہے، زیادہ تر غریب آٹوڈرائیورایسے ہیں جوکسی سیٹھ صاحب سے آٹورکشاکرائے پہ لیکرچلاتے ہیں،ایسے مستحقین کی نشاندہی کرکے انہیں ای رکشامہیاکرائی جائیں تاکہ وہ اپنی روزی روٹی کماتے رہیں۔