احمد رشید علیگ
علی گڑھ
وہ اس جھنگولا چار پائی پر لیٹا ہے۔ جس کے بان کچی زمین کو چھو رہے ہیں اور اس کا بدن اس چارپائی پر اس طرح جھول رہا ہے جیسے ڈھانچہ کا نقشہ (map) سائنس روم کی دیوار پر ہوا کے جھونکے کے ساتھ ہلتا ہے……یوں تووہ دو مرتبہ زندگی اور موت کے درمیان جھول گیا ہے لیکن اس مرتبہ تقریباً تین ماہ سے اس چار پائی پر پڑے رہنے کے سبب اس کے کمر میں زخم ہو گئے ہیں، جس میں درد کی شدّت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ اپنے دائیں ہاتھ کو کروٹ لیتا ہے۔ چار پائی کے دائیں طرف ایک کالا ساڈبّہ رکھا ہے جسمیں راکھ بھری ہے اور اسی میں وہ اپنی کھکار خون کے ساتھ اُگلتا ہے۔ چار پائی کی پائنتی کے نیچے ایک لوہے کا پرانا سا تشلا رکھا ہے۔ وہ نیچے کی طرف ذرا سا کھسکتا ہے اور اس کی آپا (ماں) سہارا دیتی ہے اس طرح وہ اس تشلے میں رفع حاجت کرتا ہے جس طرح وہ بچپن میں اپنی آپا کے پیروں کی کھڈی میں کرتا تھا۔ چار پائی کے بائیں طرف چولھا ہے جو اب دو روز سے سر دہے اور اس چولھے سے تقریباً ایک فٹ اوپر ایک تختہ گڑا ہے جس پر المونیم کے کچھ برتن اوندھے پڑے ہیں اس کے سرہانے اس کے ماں اس کا سر آہستہ آہستہ سہلا رہی ہے اور جھونپڑی میں اس کی کراہیں، ان کالی کالی اور کھردری کھردری دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر اس کے کانوں کو چیر رہی ہیں اور اس کی آپا تو ان کراہوں کو سننے کی جیسے عادی ہو گئی ہے پھر بھی وہ اسکی ہر کراہ کے جواب میں ’’بیٹا‘‘ کہہ کر اس کو تسلی دیتی ہے ’بیٹا ڈاکٹر بھیا آتا ہوگا‘ ’’اچھا‘‘ کہہ کر اسکی دھنسی ہوئی آنکھیں بار بار اس پھونس کے جھونپڑے کی چھت پر چھپکلی کی طرح چپک جاتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ میں یقینا بچ جاؤں گا چونکہ تمام ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر جب آپا نے مجھے ڈاکٹر معین بھیّا کو دکھایا تو انہوں نے کہا تھا ’’یہ ٹھیک ہو جائے گا اگر آپ ڈیڑھ ہزار روپیہ خرچ کریں‘‘۔
’’مگر میرے پاس پچیس روپیے ہیں ڈاکٹر صاحب‘‘ آپا نے کہا
’’لیکن یہ تو بہت کم ہیں‘‘
’’میں کچھ روپیے اگلے ہفتہ انتظام کر دوں گی۔ تم علاج تو شروع کرو، میں تمہاری پائی، پائی چکا دوں گی‘‘ میری آپا گڑ گڑائی
’’ن…نہیں…نہیں آپ کو ڈیڑھ ہزارروپیے کا پہلے انتظام کرنا ہوگا‘‘ ڈاکٹر معین بھیّا کے ہتھوڑے جیسی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی
اچانک اس کے سینہ میں شدید درد ہوا اور اس کے کراہنے کی آواز جھونپڑے میں گونج گئی ’’ڈاکٹر معین بھیّا کو جلدی بلالو‘‘
’’بس آتا ہی ہوگا بیٹا‘‘ آپا نے تسلّی دی
اچانک جھونپڑے میں خاموشی طاری ہو گئی اور اس کی آنکھیں جھونپڑے کی سرکیوں میں اٹک گئیں وہ سوچنے لگا اگر جان ڈیڑھ ہزار و روپیہ کے عیوض ملے تو برا کیا ہے؟… لیکن …یہ ڈیڑھ ہزار روپیے آئیں گے کہاں سے اس کے منہہ سے ایک ’’ آہ‘‘ نکلی۔ اور اس کی اس آہ کے ساتھ ماضی کے دریچہ پر پڑا ہوا و ہ قفل ٹوٹ گیا۔ ’’میری ماجدہ … مجھے صرف تمہارا انتظار ہے دیکھو چلی آؤ ابھی ان آنکھوں میں روشنی باقی ہے …تمہیں یاد ہے جب میرا بلیڈ سے ہاتھ کٹ گیا تھا اور تم میری انگلی سے پٹی باندھ رہی تھیں ’’میں ماجدہ تم سے شادی کروں گا‘‘… اور تم نے خاموش ہو کر اپنے دانتوں سے ڈو پٹہ کے پلو کو چبا لیا تھا… مجھے یہ بھی یاد ہے کہ تم میری زندگی سے بہت دور چلی گئیں جبکہ تم نے نصیر سے شادی کرلی تم نے ٹھیک ہی کیا اور تم کر بھی کیا سکتی تھیں…؟… میرا مکان ٹھیک نہیں …میرے پاس کھانے کو نہیں… میرے پاس ڈھنگ کا کپڑا نہیں… میں ایک غریب آدمی ہوں… ایک مریض ہوں جس کے کاندھے پر تمام گھر کا بوجھ ہے… ایک بوڑھا باپ جو ہمیشہ اپنے کپڑوں کی جوئیں نکالتا رہتا ہے… ایک بوڑھی ماں جس کی آنکھیں کپڑے سیتے سیتے کمزور ہو گئیں ہیں… دو بہنیں جن کے جوان ہونے کا احساس مجھے اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب میری عیادت کے لیے آنے والے ہر مرد کا ہاتھ میری جیب کو گرم کرتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھوں کو میری بہنوں کے جوبن سے سینکتا ہے…کتنے ہمدرد ہیں یہ لوگ!… جی چاہتا ہے کہ منہ بکوٹ لوں … مگر ان کی دی ہوئی خیرات میرے لیے زنجیر بن جاتی ہے کیونکہ یہ میری ماں، میرے باپ اور میری بہنوں کی دوزخ بھرتی ہے… وہی دوزخ جسے میں زندگی بھر بھرتا رہا ہوں… جب ہوش سنبھالا تو سب سے پہلے اسی دوزخ کی آگ محسوس کی …رکشہ چلایا …تالے کے پریس چلائے… اور پھر زندگی کی گاڑی بھی چلتی رہی …ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زیادہ محنت کرنے سے پھیپھڑے خراب ہو جاتے ہیں۔ اب بھلا ڈاکٹروں کو یہ کون سمجھائے؟… کہ پھیپڑے تو زیادہ بھوکے رہنے سے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ پھیپھڑے تو بہنوں کی شادی کی فکر میں بھی خراب ہو جاتے ہیں ان حالات میں کوئی شریف آدمی جھونپڑوں سے شادی کرنے کے لیے راضی نہیں ہوتا… پھیپھڑے تو ان تنگ جھونپڑوں میں بھی خراب ہو جاتے ہیں جن میں روشنی کا گزر نہیں ہوتا… جن میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا … اور پھر میرا تو جھونپڑا شہرسے دور گندے نالے کے قریب ہے یہاں اور بھی جھونپڑے ہیں جن میں کیڑے مکوڑے مکھی مچھر کی طرح رینگتے والے انسان خدا کی بنائی ہوئی اس زمین پر بغیر کرائے کے رہتے ہیں سوائے اس چوتھ کے جو کلو دادا کو ہر ماہ بستی کے لوگ مل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ہماری جان و مال کی حفاظت کرتا ہے اور ہماری بہن بیٹیوں کی عزت کا محافظ بھی ہے اور حقدار بھی … اور ان کی عصمتوں کا راز دار بھی ہے … وہ عصمتیں جوشاید روٹی سے زیادہ اہم نہیں… اس لیے کہ یہاں پولس کا معقول انتظام نہیں …چونکہ یہاں بجلی کا مناسب انتظام نہیں… یہاں پختہ سڑکیں بھی نہیں… جہاں سے آفیسرس کی کاریں آسانی سے گزر سکیں…یہی وجہ ہے کہ کسی جھونپڑے کو پولیو ہوجاتا ہے، کسی جھونپڑے کو کالرا… اور کسی جھونپڑے کے منہہ سے خون آتا ہے۔
اچانک اسے کھانسی کا ٹھسکا آیا اور اس نے جلدی سے اپنا منہہ زمین پر لٹکا دیا اس کے منہہ سے ایک دل خراش آہ نکلی …’’آپا میں تمہارے ہاتھ جوڑتا ہوں معین بھیا کو بلا دو‘‘ وہ دیکھ تیرے باپ دوائی لینے گئے ہیں‘‘ اسکی ماں نے سمجھایا
’’لیکن شیشیاں تو یہ رکھی ہیں ‘‘ آنکھوں کے اشارے سے الماری کی طرف نشاندہی کی اسکی ماں یک لخت گھبرا سی گئی اس نے پہلو بدلتے ہوئے فوراً کہا ’’دوسری شیشی لے گئے ہیں‘‘ اور پھر وہ خاموش ہو کر جھونپڑے کی چھت کو گھورنے لگا…سوچنے لگا … زندہ رہنا کتنا مشکل ہے… اور مرنا کتنا آسان … نہیں نہیں…بہت مشکل ہے…چونکے میرے کفن میں لگ بھگ وہی رقم لگے گی جو میرے بچانے میں خرچ ہو گی … لیکن یہ کہاں سے آئے گی؟… خیر… یہ تو جمع ہو جائے گی … گھر کے تمام رشتے دار… آس پاس کے پڑوسی … آہستہ آہستہ میری چار پائی کے چاروں طرف جمع ہو رہے ہیں۔ یہی لوگ انتظام کریں گے۔ لیکن کیا ؟ … کیا یہ لوگ چندہ کر کے مجھے بچا نہیں سکتے۔ کتنے ظالم ہیں یہ لوگ؟ … جو میری موت کا انتظار کر رہے ہیں …لیکن آپا ڈاکڑ کو نہیں بلا رہی ہے…کیا اسکو بھی میری موت… نہیں … نہیں … یہ تو میری ماں ہے… یہ ظالم نہیں ہو سکتی اس نے میری دن رات خدمت کی ہے… ہر لمحہ میری دلجوئی کی ہے … ابھی کل ہی کی بات ہے کتنے پیار سے کہہ رہی تھی؟ ’’بیٹا تو گھبرائیو نہیں، میں تیرا علاج کراؤں گی، اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤں گی… تو چپ چپ نہ رہا کر … ہنسا بولا کر… بتا تو کیوں چپ چپ رہتا ہے؟ … کسی کی یاد آتی ہے کیا؟… اگر کوئی لڑکی ہو تو نام بتا… میں اس سے تیری شادی کراؤں گی … بتائیو بیٹا کون ہے وہ لڑکی ؟… جس سے تو محبت کرتا ہے ؟ … اس وقت میرا دل بھر آیا ’’وہ ماں تو ہی ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں‘‘ اور میں یہ کہہ کر اس کی گردن سے جھٗول گیا تھا اس وقت میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے… اچانک اس نے ہچکی لی … ‘‘ آپا مجھے معلوم ہے ڈاکٹر بھیا نہیں آئے گا‘‘… ’چونکہ ہمارے پاس فیس نہیں ہے‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں پتھرا گئیں جو ابھی تک جھونپڑے پر ٹنگی سرکیوں کو گن رہی تھیں جس میں غریبوں کی زندگی کے ایک ایک پل کا حساب موجود ہے۔
¦¦¦